27 ستمبر 2026 - 22:39
امریکہ کو مغربی ایشیا سے نکال باہر کرنے کا ایرانی انداز - 3

چیتھم ہاؤس تھنک ٹینک نے امریکی اڈوں کی صورتحال کے بارے میں رپورٹ دی ہے کہ 12 سے زیادہ امریکی اڈوں کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔ ایران نے ثابت کرکے دکھایا کہ سستے غیر متناسب ہتھیار جدید فضائی دفاع میں گھس بھی سکتے ہیں اور اور دشمن کے بنیادی ٹھکانوں کو غیر متناسب نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || کئی دہائیوں تک، مغربی ایشیا میں امریکی فوجی اڈوں کا وسیع نیٹ ورک واشنگٹن کے لئے خطے میں طاقت کے استعمال کا ایک اہم ذریعہ تھا؛ بحرین، قطر اور کویت سے لے کر امارات، سعودی عرب، عراق، اردن اور عمان تک۔ لیکن اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف حالیہ امریکی جنگ نے واشنگٹن اور عرب ممالک کے سامنے ایک بنیادی سوال رکھ دیا ہے اور وہ یہ "کیا یہی اڈے جو مبینہ طور پر سلامتی کے ضامن تھے، اب زدپذیر مقامات اور قابل رسائی اہداف بن گئے ہیں؟

تیسری اور آخری قسط:

امریکی پسپائی کا سبب ایران کے شدید حملے

سینئر تجزیہ کار اور جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ کے سابق رکن اس بارے میں کہتے ہیں: "کیا آپ جانتے ہیں کہ جنوبی کوریا سے جنگی جہاز بھیجنے کے لئے واشنگٹن کی ہنگامی درخواست کی وجہ کیا تھی؟ وجہ یہ تھی کہ خلیج فارس [اور مغربی ایشیا] کی 8 ریاستوں میں تمام امریکی فوجی اڈے تباہ ہو گئے ہیں؛ بحرین میں پانچویں بیڑے کا ہیڈ کوارٹر بحالی کا قابل نہیں رہا ہے۔"

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان "بريگیڈیئر جنرل حسین محبی"، ان تبدیلیوں کے بارے میں کہتے ہیں: "امریکہ نے مجبوراً اپنی افواج اور سازوسامان کو ان اڈوں سے منتقل کیا، اور دور دراز اڈوں میں تعینات کیا؛ اور انہیں اردن کے الازرق اڈے، اور دیگر اڈوں میں پہنچایا، اور صیہونی ریاست کی سرحد کے قریب "خلیج عقبہ" میں لے گیا؛ اور اسی طرح شام میں۔ لیکن وہاں بھی ان کی سلامتی یقینی نہیں بن سکی۔"

جنگ کا سب سے اہم پیغام

"ٹریٹا پارسی" امریکہ میں سیاسی کارکن خطے کی صورتحال کے بارے میں کہتے ہیں: "امریکی 'نجات دہندہ' کے دور کا خاتمہ آ پہنچا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں امریکی سلامتی کا نظام مر گیا ہے۔ اس حقیقت کو چھپانے والے والے دکھاوے پر مبنی اقدامات، خطے کی سلامتی کے لئے خطرہ بن جائیں گے۔ ایران کی جنگ نے واضح کیا ہے کہ یہ نظام نہ قابل اعتماد ہے اور نہ مؤثر۔ خلیج فارس تعاون کونسل کے ممالک میں امریکی اڈے، سلامتی کا ذریعہ بننے کے بجائے، عدم تحفظ کا ذریعہ بن گئے ہیں۔"

حنگ کا اہم ترین پیغام

شاید جنگ کا سب سے اہم پیغام یہی ہے کہ مغربی ایشیا میں امریکہ کے مستقبل کا مسئلہ صرف فوجی برتری برقرار رکھنا نہیں؛ بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ کیا وہ اسی نیٹ ورک پر انحصار کئے بغیر، ـ جس کی کمزوری اب آشکار ہو چکی ہے، ـ اس برتری کو برقرار رکھ سکتا ہے یا نہیں؟

بنیادی اور اہم بات یہ ہے کہ اس سے پہلے کسی میں ان اڈوں کے خلاف اقدام کی جرات اور ہمت نہیں تھی لیکن اب ایران نے ان اڈوں کو اجڑے ہوئے گوداموں میں تبدیل کر دیا ہے۔ امریکی اڈہ جو کسی زمانے میں واشنگٹن کی موجودگی، طاقت اور تسدید کی علامت تھا، اب نئے فارمولوں کے مطابق، بیک وقت ایک کمزوری، زدپذیری، ایک قابل دسترس ہدف اور یہاں تک کہ مغربی ایشیا میں امریکی موجودگی کے اخراجات بڑھانے کا سبب بن گیا ہے۔ ایسی صورتحال جو ایران نے اپنی ہمت و جرات سے امریکہ پر مسلط کی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: امیر حمزہ نژاد

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha